کلینیکل ماہر نفسیات سعدیہ عاطف بیماری اور عوارض کے مابین فرق کے بارے میں بات کرتی ہے ، اور ان میں سے کچھ آٹزم کی وجہ سے کس طرح ترقی کرسکتا ہے۔

عموماً آٹِزم سے متاثرہ بچے کئی دوسرے طبی مسائل کاشکار بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ مسائل آٹِزم کی نوعیت کے حساب سے ہرفرد میں مختلف ہوتے ہیں۔

یسے حالات میں آٹِزم کے اثرات زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ان بیماریوں اور آٹِزم کے ساتھ ان کے تعلق کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔

بائی پولر ڈِس آرڈر (Bipolar Disorder)

اس مرض کا شکار افرادڈپریشن اور جنون کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔ آٹِزم کے شکار افراد میں یہ مرض زیادہ عام ہوتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ آٹِزم کو بائی پولر ڈس آرڈر سمجھ لیا جاتاہے یا بالکل اس کا الٹ ہوجاتاہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ ان دونوں کی علامات میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔

ڈپریشن

آٹِزم سے متاثرہ افراد میں عمر کے ساتھ ساتھ ڈپریشن کے امکانات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔آٹِزم سے متاثرہ زیادہ کام کرنے والے افرد میں بھی ڈپریشن زیادہ ہو سکتا ہے۔ ڈپریشن کی ان علامات کا خیال رکھنا چاہیے:

  • آٹِزم سے متاثرہ فرد کی ان چیزوں میں دل چسپی ختم ہوجانا جو اسے کسی وقت بہت دل چسسپ لگتی تھیں۔  
  • ذاتی صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھ پانا 
  • مسلسل اداس رہنا 
  • خود کو بےکار سمجھنا 
  • ناامید رہنا 
  • چڑچڑاپن 
  • شدت پسند ہوجانا اور اکثر موت یا خودکشی کے بارے میں سوچتے رہنا 
  • cmlشدت پسند ہوجانا اور اکثر موت یا خودکشی کے بارے میں سوچتے رہنا 
  • Does not respond to name by 12 months

آبسیسوکمپلسو ڈس آرڈر (OCD)

محققین کے مطابق(OCD)  آٹِزم سے متاثرہ بچوں اور بڑوں میں زیادہ عام ہے لیکن اس کو آٹِزم والی چیزوں کو دہرانے والی عادات سے نہیں ملانا چاہیے بلکہ اس کی باقاعدہ تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

مسلسل الجھن (Anxiety)

آٹِزم کا شکار افراد میں سے 42 فیصد الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ مسلسل الجھن دل کی دھڑکن میں اضافے، پٹھوں میں کچھاؤ، معدے میں تکلیف اور سر درد کی وجہ بن سکتی ہے۔ معاشرتی حالات بھی آٹِزم سے متاثرہ افراد میں الجھن کی وجہ بن سکتے ہیں۔ یہی کام نئی جگہوں، ہجوموں اور نئے لوگوں میں رہنے سے بھی ہو سکتا ہے۔

مرگی

اس کا بھی آٹِزم سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ لوگوں کو خصوصاً بچوں کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ انھیں ہو کیا رہا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے آس پاس کے لوگوں کو بھی دورے پڑنے کے دوران سمجھ نہ آ سکے۔ دورے پڑنے کی نشانیوں کو ذہن نشین کر لینا چاہیے اور جلد از جلد مدد حاصل کرنی چاہیے۔ یہ نشانیاں درج ذیل ہیں:

  • لمبے دورانیے کے لیے بلا وجہ گھورتے رہنا 
  • شدید سر درد 
  • بے حد گھبراہٹ 
  • بے ارادہ حرکات 
  • No expressive vocabulary by 16 months
  • No meaningful two-word phrases (not including imitating or repeating) by 24 months
  • Any loss of speech, babbling or social skills at any age
  • Does not respond to name by 12 months
  • معدے اور آنتوں میں خرابی (یہ خرابی آٹِزم سے متاثرہ بچوں میں آٹھ گنا زیادہ ہوتی ہے) 
  • Does not share sounds, smiles or other facial expressions by 9 months
  • Does not babble by 12 months
  • No gestures such as pointing, showing, reaching or waving by 12 months
  • No expressive vocabulary by 16 months
  • No meaningful two-word phrases (not including imitating or repeating) by 24 months
  • Any loss of speech, babbling or social skills at any age
  • Does not respond to name by 12 months

معدے اور آنتوں میں خرابی

یہ خرابی آٹِزم سے متاثرہ بچوں میں آٹھ گنا زیادہ ہوتی ہے

معدے اور آنتوں کی خرابی میں درج ذیل شامل ہیں: آنتوں کی سوزش، پیٹ میں درد، دائمی قبض، معدے کے تیزاب کا خوراک کی نالی اور منہ میں آنا۔

کھانے کے مسائل

یہ بھی آٹِزم سے متاثرہ بچوں میں بہت عام ہے۔ بچے کھانے کے معاملے میں بہت ہی نقطہ چیں ہو جاتے ہیں۔ کچھ چیزوں کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں اور بہت ہی محدود چیزیں کھاتے ہیں۔ کچھ تو مستقل طور پر ضرورت سے زیادہ کھانے لگتے ہیں۔ کچھ بچے نہ کھانے والی چیزیں بھی کھانے لگتے ہیں۔

Some children might even suffer from chronic overeating and Pica-the act of eating non-edible items. 

یہ کچھ ایسی بیماریاں ہیں جن کا تعلق آٹِزم سے ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ خرابیاں ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا بچہ آٹِزم سے متعلقہ کسی بیماری کا شکار ہے تو یہ جاننے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ کیا یہ واقعی آٹِزم کی وجہ سے ہے یا نہیں۔

By visitng our site, you agree to use of cookies to enhance your browsing experience.  I Agree